Thursday, August 26, 2010

خاتمہ موت کے آداب اور اس سے متعلق چند دعائیں

﴿خاتمہ﴾
﴿خاتمہ موت کے آداب اور اس سے متعلق چند دعائیں﴾

موت کے آثار رونما ہونے پر توبہ کرے
جاننا چاہیئے کہ جب کسی فرد پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں تو جسے سب سے پہلے مرنے والے کے حالات کو سنبھالنا چاہیئے وہ خود مرنے والا ہی ہے جس کو آخرت کا سفر در پیش ہے اور اسے اس سفر کے لیے زاد راہ کی ضرورت ہے . پس سب سے پہلا اور ضروری کام جو اسے کرنا چاہیئے وہ اپنے گناہوں کا اعتراف اور کوتاہیوں کا اقرار ہے کہ گذشتہ پر ندامت کے ساتھ صدق دل سے توبہ کرے اور خدائے تعالیٰ کی بارگاہ میں آہ و زاری کرے کہ وہ اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف کر دے اور پیش آمدہ حالات اور ہولناک واقعات میں اس کو نہ تو خود اس کے حوالے کرے اور نہ دوسروں کے سپرد کرے .
حقوق اﷲ اور حقوق العباد کی طرف توجہ
پھر اپنی مصیبت کی طرف توجہ کرے اور حقوق اﷲ و حقوق العباد جو اس کے ذمے نکلتے ہیں انہیں خود ادا کرے اور دوسروں کے سپرد نہ کرے کیونکہ مرنے کے بعد اس کے سبھی اختیارات اوروں کے ہاتھ آجاتے ہیں اور اس کے پاس نہیں رہتے، پھر وہ اپنے مال و متاع کو حسرت کی نگاہوں سے دیکھتا رہتا ہے تب جن و انس میں سے شیطان اس مرنے والے کے وارثوں کے دلوں میں وسوے ڈالتے رہتے ہیں اور اس امر میں مانع ہوتے ہیں کہ وہ اس کے ذمے رہ جانے والے واجبات سے اس کو بری کریں . اس وقت یہ بات اس کے بس سے باہر ہوتی ہے کہ کسی سے یہ کہے کہ اسے دنیا میں لوٹا یاجائے تا کہ وہ اپنے مال سے شائستہ اعمال بجا لائے اس وقت اس کی چیخ و پکار کوئی نہیں سنتا اور اس کی حسرت و پشیمانی بے سود ہوتی ہے لہذا وہ اپنے مال میں ایک تہائی کی وصیت کر دے کہ یہ اس کے قریبی رشتہ داروں کو دیاجائے اور اس میں سے صدقہ و خیرات اور جو اس کے مناسب حال ہے خرچ کیا جائے ،کیونکہ وہ ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کا اختیار نہیں رکھتا پھر وہ اپنے مومن بھائیوں سے معافی مانگے کہ ان کے جو حقوق اس پر ہیں ان سے بری الذمہ ہو جائے مثلاً جس کی غیبت کی ہے یا توہین کی ہے یا کسی کو دکھ پہنچایا ہے وہ افراد موجود ہوں تو ان سے التماس کرے کہ وہ اسے معاف کر دیں اگر وہ موجود نہ ہوں تو مومن بھائیوں سے درخواست کرے کہ وہ اس کی معافی کے لیے دعا مانگیں تاکہ جو کچھ اس کے ذمہ ہے وہ اس سے بری اور سبکدوش ہو جائے پھر اپنے اہل و عیال اور اولاد کے معاملات کو خداوند کریم پر توکل کے بعد کسی امانت دار شخص کے سپرد کرے اور اپنے چھوٹے بچوں کے لیے کوئی وصی مقرر کرے اس کے بعد اپنا کفن منگوائے اور جو کچھ مفصل کتابوں میں درج ہے، یعنی کلمہ شہادتین ، اذکار، عقائد، دعائیں، اور آیات اس پر خاک شفا سے لکھوائے ، یہ اس صورت میں ہے کہ اس سے پہلے غفلت میں رہا اور اپنا کفن تیار کر کے نہ رکھا ہو ورنہ مومن کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ اپنا کفن تیار کر کے رکھے ،جو ہر وقت اس کے پاس موجود رہے . جیسا کہ امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ جس شخص کا کفن اس کے گھر میں موجود ہوتا ہے اس کو غافلوں کی فہرست میں نہیں لکھا جاتا اور وہ جب بھی اپنے کفن پر نظر کرتا ہے تو اسے ثواب ملتا ہے اور اب اپنے بیوی بچوں سے بے فکر ہوکر پوری طرح سے بارگاہ رب العزت کی طرف متوجہ ہوجائے اور اس کی یاد میں لگ جائے یہ فکر کرے کہ یہ فانی امور اس کے کام نہیں آئیں گے اور پروردگار کی مہربانی اور اس کے لطف و کرم کے بغیر دنیا و آخرت میں کوئی چیز اسے فائدہ نہیں دے گی اور اس کی فریاد رسی نہیں کرے گی۔ اس بات کا یقین کرے کہ اگر حق تعالیٰ کی ذات پر توکل کرے گا تو اس کے پسماندگان کے تمام معاملات اچھے طریقے سے انجام پائیں گے اور یہ بھی ذہن میں رکھے کہ اگر وہ خود زندہ رہ جائے تو بھی مشیت الٰہی کے بغیر و ہ انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا نہ ان سے کسی ضرر کو دور کر سکے گا اور جس خدا نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان پر خود اس سے بھی زیادہ مہربان ہے ،اس وقت اسے رحمت خداوندی کا بہت زیادہ امیدوار ہونا چاہیئے. نیز حضرت رسول(ص) اکرم اور ائمہ معصومین کی شفاعت کی آس رکھنی چاہیئے ان کی تشریف آوری کا منتظر ہونا چاہیئے ، بلکہ اس بات کا یقین رکھنا چاہیئے کہ وہ ذوات مقدسہ اس وقت تشریف فرما ہوتی اور اپنے شیعوں کو خوشخبریاں دیتی ہیں اور ملک الموت سے ان کے بارے میں سفارشیں کرتی ہیں
تاکید در امر وصیت
شیخ طوسی(رح) مصباح المتہجد میں فرماتے ہیں کہ وصیت کرنا مستحب ہے اور انسان اسے ترک نہ کرے کیونکہ روایت میں ہے کہ انسان کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ کوئی ایسی رات بسر نہ کرے جس میں وصیت نامہ اس کے سر ہانے نہ پڑا ہو ، بیماری کی حالت میں اس کے بارے میں زیادہ تاکید کی گئی ہے اور ضروری ہے کہ اچھی سے اچھی وصیت کرے اپنے آپ کو حقوق اﷲسے عہدہ برآ کرے اور لوگوں پر کیے ہوئے، مظالم سے گلو خلاصی کرائے حضرت رسول اﷲ سے روایت ہے کہ جو شخص موت کے وقت اچھی وصیت نہ کرے تو اس کی عقل اور مروت میں نقص ہوتا ہے، لوگوں نے پوچھا یارسول(ص) اﷲ! کیسی وصیت اچھی ہوتی ہے؟ آپ(ع) نے فرمایا: جب انسان کا وقت وفات قریب ہو اور لوگ اس کے پاس جمع ہوں تو یہ کہے:
اَللّٰہُمَّ فاطِرَ السَّمٰوَاتِ
اے معبود! اے آسمانوں اور زمین
وَالْاََرْضِ عالِمَ الْغَیْبِ
کے پیدا کرنے والے نہاں و عیاں
وَالشَّہادَۃِ الرَّحْمنَ
کے جاننے والے بڑے رحم والے
الرَّحِیمَ، إنِّی ٲَعْہَدُ
مہربان میں تجھ سے عہد کرتا ہوں ،
إلَیْکَ ٲَنِّی ٲَشْہَدُ ٲَنْ
میں گواہی دیتا ہوں کہ
لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَحدَہُ
نہیں کوئی معبود مگر اﷲ جو یکتا ہے
لاَ شَرِیکَ لَہُ وَٲَنَّ
کوئی اس کا شریک نہیں اور یہ کہ
مُحَمَّداً صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ
حضرت محمد صلی اﷲ علیہ
وَآلِہِ عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ
و آلہ اس کے بندے اور رسول(ص)ہیں
وَٲَنَّ السَّاعَۃَ آتِیَۃٌ لاَ
یقیناً قیامت آنے والی ہے ، اس
رَیْبَ فِیہا وَٲَنَّ اﷲَ
میں کچھ شبہ نہیں اﷲ ان لوگوں کو
یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ
اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں
وَٲَنَّ الْحِسابَ حَقٌّ
حساب و کتاب حق ہے،
وَٲَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَٲَنَّ
جنت اور وہ نعمتیں بھی جو
مَا وُعِدَ فِیہا مِنَ النَّعِیمِ
اس میں کھانے پینے
مِنَ الْمَٲْکَلِ وَالْمَشْرَبِ
کے لیے دی جائیں گی حق ہیں
وَالنِّکاحِ حَقٌّ وَٲَنَّ النَّارَ
نکاح حق ہے، جہنم
حَقٌّ وَٲَنَّ الْاِیمانَ حَقٌّ
حق ہے ایمان حق ہے،
وَٲَنَّ الدِّینَ کَما وَصَفَ
دین حق ہے، جیسے اس نے بتایا
وَٲَنَّ الْاِسْلامَ کَما
اسلام حق ہے جیسے اس
شَرَعَ وَٲَنَّ الْقَوْلَ
نے حکم دیا حق بات وہی ہے
کَما قالَ وَٲَنَّ الْقُرْآنَ
جو اس نے کہی قرآن حق ہے
کَما ٲَنْزَلَ، وَٲَنَّ اﷲَ
جیسے اس نے نازل کیا اور اﷲ
ہُوَ الْحَقُّ الْمُبِین
واضح حق ہے، میں اس دنیا
وَٲَنِّی ٲَعْہَدُ إلَیْک
میں اس دنیا میں تیرے
فِی دارِ الدُّنْیا ٲَنِّی
ساتھ عہد کرتا ہوں کہ یقینا
رَضِیتُ بِکَ رَبّاً
میں راضی ہوں کہ تو میرا رب ہے
وَبِالاِْسْلامِ دِیناً وَبِمُحَمَّدٍ
اسلام میرا دین ہے ،حضرت محمد
صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ
صلی اﷲ علیہ و آلہ
نَبِیّاً وَبِعَلِیٍّ وَلِیّاً
میرے نبی ہیں، علی(ع) میرے ولی ہیں
وَبِالْقُرْآنِ کِتاباً وَٲَنَّ
قرآن میری کتاب ہے اور اس پر
ٲَہْلَ بَیْتِ نَبِیِّکَ عَلَیْہِ
کہ تیرے نبی کے اہل بیت میرے امام
وَعَلَیْہِمُ اَلسَّلَامُ ٲَئِمَّتِی
ہیںتیرے نبی اور ان اماموں پر سلام
اَللّٰہُمَّ ٲَنْتَ ثِقَتِی عِنْدَ
اے معبود! سختی کے وقت تو میرا
شِدَّتِی وَرَجائِی عِنْدَ
سہارا ہے، پریشانی میں تو ہی میری
کُرْبَتِی وَعُدَّتِی عِنْدَ
آس ہے تو ہی میرا ذخیرہ ہے، ان
الْاَُمُورِ الَّتِی تَنْزِلُ بِی
حادثوں میں جو مجھ پر آ پڑتے ہیں
وَٲَنْتَ وَلِیِّی فِی نِعْمَتِی
تو میرا نعمت دینے والا مولا ہے میرا
والہی والہ ابائی
اور میرے بزرگوں کا معبود ہے
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ
رحمت فرما محمد(ص) اور ان کی آل(ع) پر
وَلاَ تَکِلْنِی إلی نَفْسِی
اور مجھے پلک چھبکنے تک بھی میرے
طَرْفَۃَ عَیْنٍ ٲَبَداً وَآنِسْ
نفس کے حوالے نہ کر قبر کی تنہائی
فِی قَبْرِی وَحْشَتِی
میں میرا ہمدم بن اپنے ہاں میرے
وَاجْعَلْ لِی عِنْدَکَ
لیے عہد مقرر فرما جب حشر میں
عَہْداً یَوْمَ ٲَلْقاکَ
تیرے سامنے حاضر
مَنْشُوراًَ ۔
ہوں گا ۔

عہد نامہ میت
پس یہی عہد میت ہے جس دن وہ اپنی حاجات کی وصیت کر رہا ہوتا ہے اور وصیت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ اس بات کی تصدیق خداوند عالم سورہ مریم میں فرما رہا ہے:’’ لَا یَمْلِکونَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّامَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَھْداً‘‘ یعنی شفاعت کے مالک نہیں ہوں گے مگر وہ لوگ جنہوں نے خدائے رحمن کے ہاں سے عہد لے لیا ہے اور یہ وہی عہد ہے . حضرت رسول(ص) نے امام علی بن ابیطالب(ع) سے فرمایا: یہی چیز اپنے اہل بیت اور اپنے شیعوں کو بھی تعلیم کرو اور اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ یہی چیز مجھے جبرائیل نے بتائی ہے. پھر شیخ فرماتے ہیں کہ یہی چیز لکھ کر میت کے جرید تین کے ساتھ رکھی جاتی ہے اور اسے لکھنے سے پہلے یہ دعا پڑھی جائے:
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمنِ
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام جو رحمن
الرَّحِیمِ ٲَشْہَدُ ٲَنْ لاَ
رحیم ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ
إلہَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَہُ لاَ
نہیں کوئی معبود مگر اﷲ جو یکتا ہے
شَرِیکَ لَہُ وَٲَشْہَدُ
کوئی اس کا شریک نہیں میں گواہی دیتا ہوں
ٲَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ
کہ محمد(ص)(ص) اس کے بندے
وَرَسُولُہُ صَلَّی اﷲ
اور رسول(ص)ہیں ، خدا رحمت کرے ان
عَلَیْہِ وَآلِہِ، وَٲَنَّ
پر اور ان کی آل(ع) پر
الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَٲَنَّ النَّارَ
جنت حق ہے، جہنم
حَقٌّ وَٲَنَّ السَّاعَۃَ
حق ہے، قیامت حق ہے،
حَقٌّ آتِیَۃٌ لاَ رَیْبَ فِیہا
وہ آنے والی ہے ، اس میں شک نہیں
وَٲَنَّ اﷲَ یَبْعَثُ مَنْ فِی
کہ اﷲ ان لوگوں کو اٹھائے گا جو
الْقُبُورِپھر یہ لکھے:
قبروں میں ہیں ۔
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمن
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام جو رحمن
الرَّحِیمِ شَہِدَ الشُّہُودُ
رحیم ہے اس تحریر میں نام بردہ
الْمُسَمَّوْنَ فِی ہذَا
گواہی دیتے ہیں کہ
الْکِتابِ ٲَنَّ ٲَخاہُمْ
اﷲ عزو جل کے دین میں
فِی اﷲِ عَزَّوَجَلَّ فلان
ان کے بھائی نے ﴿فلان
بن فلان۔
بن فلان﴾
یہاں مرنے والے شخص کا نام لکھے۔
ٲَشْہَدَ ہُمْ وَاسْتَوْدَعَہُمْ
انہیں گواہ بنایا ان کے سپرد کیا اور ان
وَٲَقَرَّ عِنْدَہُمْ ٲَنَّہُ یَشْہَدُ
کے سامنے اقرار کیا کہ وہ گواہی دیتا
ٲَنْ لاَ إلہَ إلاَّ اَﷲُ وَحْدَہُ
ہے کہ نہیں معبود مگر اﷲ جو یکتا ہے
لاَ شَرِیکَ لَہُ، وَٲَنَّ
کوئی اس کا شریک نہیں اور یہ کہ
مُحَمَّداً صَلَّی اﷲُ
حضرت محمد صلی اﷲ
عَلَیْہِ وَآلِہِ عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ
علیہ و آلہ اس کے بندے اور اس
وَٲَنَّہُ مُقِرٌّ بِجَمِیعِ
کے رسول(ص)ہیں اور وہ تمام
الْاََنْبِیَائِ وَالرُّسُلِ
انبیائ و رسل کا
عَلَیْہِمُ اَلسَّلَامُ، وَٲَنَّ
اقرار کرتا ہے اور اﷲ
عَلِیّاً وَلِیُّ اﷲِ وَ إمَامُہُ
کے ولی علی(ع) اس کے امام ہیں ، ان
وَٲَنَّ الْاََئِمَّۃَ مِنْ وُلْدِہِ
کی اولاد سے ائمہ اس
ٲَئِمَّتُہُ وَٲَنَّ ٲَوَّلَہُمُ
کے امام ہیں کہ ان میں اول
الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ
حسن(ع) ہیں اور حسین(ع)
وَعَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْن
علی (ع)بن الحسین
وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ
محمد(ع) ابن علی(ع)،
وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ
جعفر(ع) بن محمد(ع)،
وَمُوسَی بْنُ جَعْفَرٍ
موسیٰ (ع)بن جعفر(ع)،
وَعَلِیُّ بْنُ مُوسَی
علی(ع) بن موسیٰ(ع)،
وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ
محمد(ص) بن علی(ع)،
وَعَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ
علی(ع) بن محمد(ص)،
وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ
حسن (ع)بن علی(ع)
وَالْقائِمُ الْحُجَّۃُ عَلَیْہِمُ
اور حجت القائم علیہم
اَلسَّلَامُ وَٲَنَّ الْجَنَّۃَ
السلام امام ہیں اور یہ کہ جنت
حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ وَالسَّاعَۃَ
حق ہے ،جہنم حق ہے، قیامت آنے
آتِیَۃٌ لاَ رَیْبَ فِیہا
والی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں
وَٲَنَّ اﷲَ یَبْعَثُ مَنْ
اور اﷲ انہیں اٹھائے گا جو قبروں
فِی الْقُبُورِ وَٲَنَّ مُحَمَّداً
میں ہیں اور یہ کہ حضرت محمد
صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ
صلی اﷲ علیہ و آلہ
عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ، جائَ
اس کے بندے اور رسول(ص)ہیں جو حق
بِالْحَقِّ وَٲَنَّ عَلِیّاً وَلِیُّ
لے کر آئے . علی خدا کے ولی
اﷲِ وَالْخَلِیفَۃُ مِنْ
اور خدا کے رسول(ص) کے
بَعْدِ رَسُولِ اﷲِ
بعد ان کے خلیفہ ہیں، خدا رحمت
صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ
کرے ان پر اور ان کی آل(ع) پر
وَمُسْتَخْلَفُہُ فِی ٲُمَّتِہِ
رسول(ص)نے انہیں اپنی امت میں
مُؤَدِّیاً لِاَمْرِ رَبِّہ
خلیفہ بنایا اپنے رب
تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَٲَنَّ
تبارک و تعالیٰ کے حکم سے
فاطِمَۃَ بِنْتُ رَسُولِ
اور فاطمہ دختر رسول(ص) اﷲ
اﷲِ وَابْنَیْہَا الْحَسَنَ
اور ان کے دو بیٹے حسن اور حسین
وَالْحُسَیْنَ إبْنَا رَسُولِ
رسول(ص)اﷲ کے دو بیٹے ان کے
اﷲِ وَسِبْطاہُ وَ إمَامَا
دو نواسے دونوں ہدایت والے امام
الْہُدَی وَقائِدا الرَّحْمَۃِ
رحمت والے پیشوا ہیں
وَٲَنَّ عَلِیّاً وَمُحَمَّداً
اور علی(ع) ، محمد(ص)،
وَجَعْفَراً وَمُوسَی
جعفر، موسیٰ،
وَعَلِیّاً وَمُحَمَّداً وَعَلِیّاً
علی، محمد(ص)، علی،
وَحَسَناً وَالْحُجَّۃَ عَلَیْہِمُ
حسن اور حجت القائم علیہم
اَلسَّلَامُ ٲَئِمَّۃٌ وَقادَۃٌ
السلام امام سردار
وَدُعاۃٌ إلَی اﷲِ جَلَّ
اور خدائے جل و علا کی طرف
وَعَلا وَحُجَّۃٌ عَلَی
بلانے والے اور اس کے بندوں
عِبادِہِ پھر لکھے :
پر حجت ہیں.
یَا شُہُوْدُ ۔
اے گواہو!
اے فلاں اے فلاں کہ جن کا اس تحریر میں نام لیا گیا ہے، اس شہادت کو میرے لیے اس وقت تک قائم رکھو، جب حوض کوثر پر مجھ سے ملوگے. پھر گواہ یہ کہیں کہ اے فلاں.
نَسْتَوْدِعُکَ اﷲَ
ہم تجھے اﷲ کے حوالے کرتے ہیں
وَالشَّہادَۃُ وَالْاِقْرارُ
اس گواہی، اقرار
وَالْاِخائُ مَوْدُوعَۃٌ
اور بھائی چارے کے ساتھ جو
عِنْدَ رَسُولِ اﷲِ صَلَّی
رسول اﷲ صلی
اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَنَقْرَٲُ
اﷲ علیہ و آلہ کے پاس امانت ہے ،
عَلَیْکَ السَّلامَ
ہم کہتے ہیں تم پر سلام
وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکاتُہ
خدا کی رحمت اور برکتیں ہوں ۔

آداب محتضر اور تلقین کلمات فرج
اس کے بعد پرچے کو تہہ کر کے اس پر مہر لگائے نیز اس پر گواہوں کی مہریں اور خود میت کی بھی مہر لگائی جائے پھر اسے میت کی داہنی طرف جریدے کے ساتھ رکھ دیا جائے . بہتر یہ ہے کہ یہ نوشتہ کافور یا لکڑی کی نوک سے لکھا جائے اور اسے خوشبو و غیرہ سے معطر نہ کیا جائے۔ بہتر ہے کہ قرب موت مرنے والے کے پیروں کے تلوے قبلہ کی طرف کیے جائیں اس کے ساتھ ایک ایسا شخص ہونا چاہیئے جو سورہ یاسین اور صافات کی تلاوت اور ذکر خدا کرے، مرنے والے کو شہادتین کی تلقین کرے ایک ایک امام کا نام لے کر اس سے اقرار کرائے اور اسے کلمات فرج کی تلقین کرے اور وہ یہ ہیں :
لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ الْحَلِیمُ
نہیں ہے معبود مگر اﷲ جو بردبار اور
الْکَرِیمُ لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ
سخی ہے، نہیں ہے معبود مگر اﷲ جو
الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ سُبْحانَ
بلند و بزرگ تر ہے ، پاک تر ہے
اﷲِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ
اﷲ جو مالک ہے سات آسمانوں کا
السَّبْعِ وَرَبِّ الْاََرَضِینَ
اور مالک ہے سات زمینوں کا
السَّبْعِ وَمَا فِیہِنَّ وَمَا
اور جو کچھ ان میں ہے اور جو
بَیْنَہُنَّ وَمَا تَحْتَہُنَّ
کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ
وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ
ان کے نیچے ہے اور عظمت والے
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
عرش کا مالک ہے، حمد ہے، اﷲ کے
الْعالَمِینَ، وَالصَّلاۃُ
لیے جو عالمین کا رب ہے اور درود
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ
ہو حضرت محمد(ص)(ص) اور ان کی
الطَّیِّبِینَ۔
پاک آل(ع) پر۔
یہ احتیاط کی جائے کہ مرنے والے کے پاس کوئی جنب یا حائض نہ آئے، جب اس کی روح پرواز کرجائے تو اسے سیدھا لٹا کر اس کی آنکھیں بند کردی جائیں باز و سیدھے کر کے پہلوئوں کے ساتھ لگا دیئے جائیں اس کا منہ بند کیا جائے پنڈلیاں کھینچ کر سیدھی کردی جائیں اور اس کی ٹھوڑی باندھ دی جائے . اس کے بعد کفن کے حصول کی کوشش شروع کر دی جائے ۔کفن میں واجب تین کپڑے ہیں یعنی لنگ، کفنی اور بڑی چادر مستحب ہے کہ ان کپڑوں کے علاوہ یمنی چادر بھی ہو یا کوئی اور چادر ہو اس کے علاوہ ایک پانچواں کپڑا بھی ہے جسے ران پیچ کہتے ہیں اور یہ میت کی رانوں پر لپیٹا جاتا ہے نیز مستحب ہے کہ مذکورہ کپڑوں کے علاوہ اسے عمامہ بھی باندھا جائے پھر اس کے لیے کافور مہیا کیا جائے کہ جو آگ میں پکاہوا نہ ہو افضل یہ ہے کہ اس کا وزن تیرہ درہم اور ایک تہائی درہم ہو، اس کا اوسط وزن چار مثقال اور کم از کم ایک درہم ہو. اور اگر اتنا کافور ملنا بھی مشکل ہوتو پھر جتنا بھی ملے وہ حاصل کیا جائے، بہتر ہے کہ کفن میں سے ہرکپڑے پر یہ لکھا جائے میت کانام اور کہے:
یَشْہَدُ
گواہی دیتا ہے
ٲَنْ لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَہُ
کہ نہیں کوئی معبود مگر اﷲ جو یکتا ہے
لاَ شَرِیکَ لَہُ، وَٲَنَّ
کوئی اس کاشریک نہیں ، یہ کہ
مُحَمَّداً رَسُولُ اﷲِ وَٲَنَّ
حضرت محمد(ص)(ص) اﷲ کے رسول(ص)ہیں
عَلِیّاً ٲَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ
حضرت علی(ع) مومنوں کے امیر ہیں
وَالْاََئِمَّۃَ مِنْ وُلْدِہِ۔
اور جو امام ان کی اولاد میں ہیں۔
یہاں ہر ایک امام کانام لکھا جائے بعد میں لکھیں۔
ٲَئِمَّتُہُ ٲَئِمَّۃُ الْہُدَی
اس کے امام ہیں جو ہدایت و نیکی
الْاََبْرار۔
والے امام ہیں۔

مرنے کے بعد احکام
یہ سب کچھ خاک شفا سے یا انگلی سے لکھا جائے سیاہی سے نہیں پھر میت کو تین غسل دیئے جائیں۔ پہلا غسل بیری کے پتوں والے پانی سے دوسرا کافور ملے پانی سے اور تیسرا خالص پانی سے . اس غسل کی کیفیت وہی ہے جو غسل جنابت کی ہے سب سے پہلے میت کے ہاتھ تین مرتبہ دھوئے جائیں پھر اس کی شرمگاہوں کو تھوڑی سی اشنان ﴿خوشبودار بوٹی﴾ کے ساتھ تین مرتبہ دھویا جائے، اس کے بعد غسل کی نیت سے اس کا سر بیری کے پتوں والے پانی سے تین مرتبہ دھویا جائے، پھر اس کے دائیں اور بائیں پہلوئوں کو بھی اسی طرح دھویا جائے۔
البتہ اس دوران میت کے سارے بدن پر ہاتھ پھیرا جائے گا یہ سب بیری کے پتوں والے پانی سے دھونا ہوگا اس کے بعد پانی والے برتن کو اچھی طرح دھویا جائے تا کہ بیری کا اثر زائل ہوجائے ، پھر برتن میں نیاپانی ڈال کر اس میں تھوڑا سا کافور ڈالا جائے . اور اس سے میت کو اسی طرح غسل دیا جائے جس طرح بیری کے پانی سے دیا گیا تھا . اگر پانی بچ جائے تو اسے انڈیل دیا جائے گا اور برتن کو اچھی طرح سے دھوکراس میں خالص پانی ڈال کر اس سے میت کو تیسرا غسل اسی ترتیب سے دیا جائے گا جو پہلے بیان ہو چکی ہے غسل دینے والے کو میت کے داہنی طرف ہونا چاہیئے اور جب بھی میت کے کسی عضو کو غسل دے تو عفواً عفواً کہے اور جب غسل دے چکے ایک صاف کپڑے سے میت کے بدن کو خشک کرے۔
نیز واجب ہے کہ غسل دینے والا اسی وقت یا اس کے بعد خود بھی غسل مس میت کرے اور مستحب ہے کہ غسل دینے سے پہلے وضو کرے ۔ غسل دینے کے بعد میت کو کفن پہنایا جائے پہلے ران پیچ لے کر اسے بچھایا جائے اس پر تھوڑی روئی رکھے اس پر زریرہ ﴿خوشبودار بوٹی﴾ چھڑکے اور یہ روئی میت کی اگلی پچھلی شرمگاہوں پر رکھ دے پھر اس کپڑے کو میت کی رانوں پر لیٹ دے اس کے بعد لنگ کو ناف سے لے کر پائوں کی طرف جہاں تک پہنچے باندھ دیا جائے اور کفن سے میت کے بدن کو ڈھانپا جائے اس کے اوپر بڑی چادر لپیٹی جائے اور اوپر سے جرہ یا کوئی اور چادر ڈالی جائے۔ میت کے ساتھ جرید تین، یعنی کھجور یا کسی اور درخت کی تازہ لکڑیاں رکھی جائیں، جن کی لمبائی ایک ہاتھ کے برابر ہو ان میں سے ایک میت کی داہنی جانب بدن سے ملاکر لنگ باندھنے کی جگہ پر رکھی جائے اور دوسری کو بائیں جانب چادر اور کفن کے درمیان رکھا جائے پھر میت کے سات اعضائے سجدہ یعنی پیشانی، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھنٹوں اور دونوں پیروں کے انگوٹھوں کے سروں پر کافور ملا جائے، اگر کافور بچ جائے تو وہ اس کے سینے پر چھڑک دیا جائے اس کے بعد میت کو کفن میں لپیٹ دیا جائے اور اس کے سراور پائوں کی طرف سے کفن کو بند لگا دیئے جائیں، لیکن جب اسے دفن کیا جانے لگے تو کفن کے بندکھول دیئے جائیں بہرحال جب تکفین میت سے فارغ ہوجائیں تو اسے ایک تابوت میں رکھ کر جنازہ گاہ لے جائیں تا کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے۔ علامہ مجلسی(رح) زاد المعاد میں نماز میت کے باب میں فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے نماز میت کا پڑھنا ہر ایسے مسلمان پر واجب ہے ۔
جسے کسی مومن مسلمان کے مرنے کی اطلاع ہوجائے اگر ان میں سے کوئی ایک مسلمان بھی یہ نماز ادا کردے تو یہ دوسرے تمام مسلمانوں سے ساقط ہوجاتی ہے بلا اختلاف یہ نماز ہر بالغ شیعہ اثنا عشری کے لیے پڑھنا واجب ہے اور زیادہ مشہور اور قوی امر یہی ہے کہ چھ ماہ کے بچے کی میت پر بھی یہ نماز پڑھنا واجب ہے ، ظاہر یہ ہے کہ اس نماز کو قربۃً الی اﷲ کے قصد سے ادا کرنے پر اکتفا کیا جائے اگر چھ ماہ سے کم عمر کا بچہ زندہ پیدا ہوا ہو اور مرجائے تو بعض علمائ اس پر نماز پڑھنا مستحب سمجھتے ہیں اور بعض اسے بدعت جانتے ہیں . لیکن احوط یہ ہے کہ اس پر نماز نہ پڑھی جائے ،میت پر نماز پڑھنے کا زیادہ حقدار بنا بر قول مشہور اس کا وارث ہی ہے اور شوہر اپنی بیوی پر نماز پڑھنے میں زیادہ اولویت رکھتا ہے۔
واجب ہے کہ نماز پڑھنے والا قبلہ رخ کھڑا ہو میت کا سراس کی داہنی جانب ہو اور میت کو پشت کے بل لٹا یاجائے اس نماز میں حدث سے پاک ہونے کی شرط نہیں ہے چنانچہ جنب مرد، حیض والی عورت اور بے وضو شخص بھی یہ نماز پڑھ سکتا ہے ،لیکن سنت ہے کہ با وضو ہوکر پڑھی جائے اگر پانی نہ مل سکے یا پانی کے استعمال میں کوئی امر مانع ہویا وقت تنگ ہوتو سنت ہے کہ تیمم کیا جائے اور احادیث کے مطابق کسی عذر کے بغیر بھی تیمم کیا جا سکتا ہے نیز سنت ہے کہ اگر میت مرد کی ہوتو پیش نماز اس کی کمر کے مقابل کھڑا ہو اور اگر عورت کی ہے تو اس کے سینے کے مقابل کھڑے ہوکر نماز پڑھے اور سنت ہے کہ جوتے اتار کر نماز پڑھے اور واجب ہے کہ نماز کی نیت کر کے پانچ تکبیریں پڑھی جائیں . سنت ہے کہ ہر تکبیر پر ہاتھوں کو کانوں کے برابر لایا جائے اور مشہور یہی ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد کہے:
ٲَشْہَدُ ٲَنْ لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ
میں گواہ ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر اﷲ
وَٲَشْہَدُ ٲَنَّ مُحَمَّداً
اور میں گواہ ہوں کہ محمد(ص)(ص) اﷲ کے
رَسُولُ اﷲ۔
رسول(ص)ہیں ۔
دوسری تکبیر کے بعد کہے:
ِاَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
اے معبود! رحمت فرما محمد(ص)(ص)
وَآلِ مُحَمَّدٍ۔
و آل(ع) محمد(ص)پر ۔
تیسری تکبیر کے بعد کہے:
اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِینَ
اے معبود! بخش دے مومن مردوں
وَالْمُؤْمِناتِ۔
اور مومنہ عورتوں کو۔
چوتھی تکبیر کے بعد کہے:
اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِہذَا الْمَیِّتِ
اے معبود! بخش دے اس میت کو۔
پھر پانچویں تکبیر کہہ کر نماز ختم کرے یہ نماز کافی ہے۔
لیکن قول مشہور کی بنا پر بہتر ہے کہ نمازیوں ادا کی جائے اور نیت کرنے کے بعد پہلی تکبیر میں کہے:
اَﷲُ ٲَکْبَرُ ٲَشْہَدُ ٲَنْ
اﷲ بزرگ تر ہے. میں گواہ ہوں کہ
لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَہُ
نہیں ہے معبود مگر اﷲ جو یکتا ہے
لاَ شَرِیکَ لَہُ وَٲَشْہَدُ
کوئی اسکا شریک نہیں اور میں گواہ ہوں
ٲَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ
کہ محمد(ص)(ص) اس کے بندے اور
وَرَسُولُہُ ٲَرْسَلَہُ بِالْحَقِّ
رسول(ص)ہیں، اﷲ نے انہیں حق کے
بَشِیراً وَنَذِیراً بَیْن
ساتھ بھیجا، وہ تا قیامت خوشخبری
یَدَیِ السَّاعَۃِ۔
دینے اور ڈرانے والے ہیں .
پھر دوسری تکبیر کہے:
اﷲُ ٲَکْبَرُ اَللّٰہُمَّ صَلِّ
اﷲ بزرگ تر ہے اے معبود! رحمت
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
نازل فرما محمد(ص)(ص) و آل(ع)
مُحَمَّدٍ وَبارِکْ عَلَی
محمد(ص)(ص) پر اور برکت نازل فرما
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
محمد(ص)(ص) و آل(ع) محمد(ص)(ص) پر
وَارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلَ
اور رحم فرما محمد(ص)(ص) و آل(ع)
مُحَمَّدٍ کَٲَفْضَلِ مَا
محمد(ص)(ص) پر اس سے بیشتر جو
صَلَّیْتَ وَبارَکْتَ
رحمت کی تو نے اور برکت نازل
وَتَرَحَّمْتَ عَلَی إبْراہِیمَ
کی تو نے اور رحم فرمایا تو نے ابراہیم
وَآلِ إبْراہِیمَ إنَّکَ
اور آل(ع) ابراہیم(ع) پر. بے شک تو
حَمِیدٌ مَجِیدٌ وَصَلِّ
خوبی والا، شان والا ہے اور رحمت
عَلَی جَمِیعِ الْاََنْبِیائِ
فرما تمام نبیوں
وَالْمُرْسَلِینَ۔
اور رسولوں پر۔
پھر تیسری تکبیر کہے:
اﷲُ ٲَکْبَرُ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ
اﷲ بزرگ تر ہے. اے معبود! بخش
لِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ
دے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو
وَالْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِماتِ
اور مسلمان مردوں اور مسلمہ عورتوں کو
الْاََحْیائِ مِنْہُمْ وَالْاََمْواتِ
ان میں جو زندہ ہیں اور جو مرگئے ہیں
تابِعْ بَیْنَنا وَبَیْنَہُمْ
تو ہمیں اور ان کو نیکیوں
بِالْخَیْراتِ إنَّکَ
میں باہم ملادے، بے شک
مُجِیبُ الدَّعَواتِ
تو دعائیں قبول کرنے والا ہے
إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ
یقینا تو ہر چیز پر قدرت
قَدِیرٌ۔
رکھتا ہے ۔
پھرچوتھی تکبیر کہے:
اﷲُ ٲَکْبَرُ اَللّٰہُمَّ إنَّ
اﷲ بزرگ تر ہے. اے معبود! بے شک
ہذَا عَبْدُکَ وَابْنُ
یہ تیرا بندہ،تیرے بندے
عَبْدِکَ وَابْنُ ٲَمَتِکَ
کا بیٹا اور تیری کنیز کا بیٹا
نَزَلَ بِکَ وَٲَنْتَ خَیْرُ
تیرا مہمان ہوا ہے اور تو سب
مَنْزُولٍ بِہِ۔ اَللّٰہُمَّ إنَّا
سے بہتر مہمانواز ہے. اے معبود! یقیناً
لاَ نَعْلَمُ مِنْہُ إلاَّ خَیْراً
ہم نہیں جانتے اس سے متعلق مگر نیکی
وَٲَنْتَ ٲَعْلَمُ بِہِ مِنَّا
اور تو اسے ہم سے زیادہ جانتا ہے
اَللّٰہُمَّ إنْ کانَ مُحْسِناً
اے معبود! اگر یہ نیکو کار ہے تو اس
فَزِدْ فِی إحْسانِہِ وَ إنْ
کی نیکیوں میں اضافہ کر دے اور اگر
کانَ مُسِیئاً فَتَجَاوَزْ
یہ بدکار ہے تو اس سے درگذر فرما
عَنْہُ وَاغْفِرْ لَہُ اَللّٰہُمَّ
اور اسے بخش دے. اے معبود!
اجْعَلْہُ عِنْدَکَ فِی
تو اسے اپنے ہاں اعلیٰ علیین
ٲَعْلَی عِلِّیِّینَ وَاخْلُفْ
میں جگہ دے اور اس کے عیال
عَلَی ٲَہْلِہِ فِی الْغابِرِینَ
میں اس کا جانشین ہو جا
وَارْحَمْہُ بِرَحْمَتِکَ
اور اس پر رحم فرما اپنی رحمت سے
یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے.
پھر پانچویں تکبیرکہے:
اَﷲُ ٲَکْبَر۔
اﷲ بزرگ تر ہے۔
اس پر نماز ختم کرے .
اگر میت عورت کی ہے تو یوں کہے:
اَللّٰہُمَّ إنَّ ہذِہِ ٲَمَتُکَ
اے معبود! بے شک یہ تیری کنیز
وَابْنَۃُ عَبْدِکَ وَابْنَۃُ
تیرے بندے کی بیٹی اور تیری کنیز
ٲَمَتِکَ نَزَلَتْ بِکَ
کی بیٹی تیری مہمان ہوئی ہے
وَٲَنْتَ خَیْرُ مَنْزُولٍ بِہاِ
اور تو بہترین مہمانواز ہے۔
اَللّٰہُمَّ إنَّا لاَ نَعْلَمُ مِنْہا
اے معبود! یقیناً ہم اسکے متعلق نہیں جانتے
إلاَّ خَیْراً وَٲَنْتَ ٲَعْلَمُ
مگر نیکی اور تو اسے ہم سے زیادہ
بِہا مِنَّا اَللّٰہُمَّ إنْ ْکانَتْ
جانتا ہے. اے معبود! اگر یہ
مُحْسِنَۃً فَزِدْ فِی
نیکوکار رہی ہے تو اس کی نیکیوں میں
إحْسانِہا وَ إنْ کانَتْ
اضافہ کردے اور اگر یہ
مُسِیئَۃً فَتَجاوَزْ عَنْہا
بدکار رہی ہے تو اس سے درگذر فرما
وَاغْفِرْ لَہا اَللّٰہُمَّ
اور اسے بخش دے. اے معبود!
اجْعَلْہا عِنْدَکَ
تو اپنے ہاں اسے اعلیٰ
فِی ٲَعْلَی عِلِّیِّینَ وَاخْلُفْ
علیین میں جگہ دے اور اس کے
عَلَی ٲَہْلِہا فِی الْغابِرِینَ
عیال میں اس کا جانشین بن جا،
وَارْحَمْہا بِرَحْمَتِکَ
اس پر رحم فرما، اپنی رحمت سے
یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اگر بے کس کی میت ہوتو کہے:
اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلَّذِینَ تابُوا
اے معبود! ان کو بخش دے، جنہوں
وَاتَّبَعُوا سَبِیلَکَ وَقِہِمْ
نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے
عَذَابَ الْجَحِیمِ۔
تو ان کو جہنم کے عذاب سے بچا ۔
اگر نابالغ بچے کی میت ہوتو کہے:
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ لاََِبَوَیْہِ
اے معبود! اسے قرار دے اس کے
وَلَنَا سَلَفاً وَفَرَطاً
والدین کے لیے اور ہمارے لیے
وَٲَجْراً۔
ہراول ذخیرہ اور اجر ۔

تشیع جنازہ اور دفن میت
اور سنت ہے کہ جب تک وہاں سے جنازہ نہ اٹھایا جائے خاص کر پیش نماز اور دوسرے لوگ بھی اسی جگہ کھڑے رہیں ایک اور روایت میں ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد کہے:
رَبَّنا آتِنا فِی الدُّنْیا
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں
حَسَنَۃً وَفِی الْاَخِرَۃِ
نیکی عطا کر اور آخرت میں بھی نیکی
حَسَنَۃً وَقِنَا عَذابَ
عطا کر اورہمیں جہنم کے عذاب
النَّارِ۔
سے بچا۔
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں: بہتر ہے کہ مرحوم کی خبر مرگ مومن بھائیوں کو دی جائے تا کہ وہ اس کے جنازے میں شریک ہوں ، اس پر نماز پڑھیں اس کے لیے استغفار کریں اور میت کو اور ان کو بھی ثواب ملے. ایک حسن حدیث میں امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جب مومن کو قبر میں لٹاتے ہیں تو اسے آواز آتی ہے کہ سب سے پہلی عطا جو ہم نے تم پر کی ہے وہ بہشت ہے اور جو لوگ تیرے جنازے کے ساتھ آئے ہیں ان پر ہم نے سب سے پہلی عطا یہ کی ہے کہ ان کے گناہ معاف کر دیئے ہیں۔
ایک اور حدیث میں آپ(ع) فرماتے ہیں کہ مومن کو قبر میں جو سب سے پہلا تحفہ دیا جاتا ہے ، وہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ آنے والے تمام لوگوں کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں . ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں جو شخص کس مومن کے جنازے کے ہمراہ جاتا اور اس کے دفن تک وہاں رہتا ہے تو خداوند تعالیٰ قیامت کے دن ستر ملائکہ کو حکم دے گا کہ وہ قبر سے اٹھائے جانے سے حساب کے موقع تک اس کے ساتھ رہ کر اس کے لیے استغفار کرتے رہیں۔ نیز فرماتے ہیں :جو شخص جنازے کے ایک کونے کو کندھا دے گا تو اس کے پچیس کبیرہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور جو شخص ﴿بہ ترتیب﴾ چاروں کونوں کو کندھا دے گا تو وہ گناہوں سے بری ہوجائے گا۔ جنازے کو چار افراد اٹھائیں اور جو شخص جنازے کے ساتھ ہو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ سب سے پہلے میت کے داہنے ہاتھ کی طرف آئے جو جنازے کا بایاں پہلو ہے وہاں اپنا دایاں کندھا دے پھر میت کے دائیں پائوں کی طرف آکر کندھا دے، اس کے بعد میت کے بائیں ہاتھ کی طرف آئے جو جنازے کا دایاں پہلو ہے، وہاں بایاں کندھا دے اور میت کے بائیں پائوں کی طرف آئے اور آکر اس کونے کو بائیں کندھے پر اٹھائے۔
اگر وہ دوسری مرتبہ چاروں اطراف کو کندھا دینا چاہے تو جنازے کے آگے سے پیچھے کی طرف آئے اور مذکورہ طریقے سے اسے کندھا دے اکثر علمائ اس کے برعکس فرماتے ہیں کہ جنازے کے داہنی طرف سے ابتدا کرے یعنی میت کے دائیں طرف سے کندھا دے۔
لیکن معتبر احادیث کے مطابق پہلا طریقہ اچھا ہے اور اگر دونوں طریقوں سے جنازے کو کندھا دے تو بہت بہتر ہے جنازے کے ساتھ چلنے میں افضل طریقہ یہ ہے کہ جنازے کے پیچھے چلے یا اسکے دائیں بائیں رہے، لیکن جنازے کے آگے ہرگز نہ چلے، اکثر حدیثوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر وہ جنازہ مومن کا ہوتو اس کے آگے چلنا بہتر ہے ورنہ پیچھے چلنا ہی مناسب ہے کیونکہ ملائکہ اس کیلئے عذاب لے کر آگے سے آتے ہیں جنازے کے ساتھ سوار ہوکر چلنا مکروہ ہے اور رسول اﷲ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی جنازے کو دیکھے وہ یہ دعا پڑھے:
اﷲُ ٲَکْبَرُ ہذَا مَا وَعَدَنَا
اﷲ بزرگ تر ہے یہی وہ چیز ہے جس کا
اﷲُ وَرَسُولُہُ وَصَدَقَ
اﷲ و رسول(ص) نے ہم سے وعدہ کیا اﷲ
اﷲُ وَرَسُولُہُ، اَللّٰہُمَّ
اور اسکے رسول(ص)نے سچ فرمایا اے معبود!
زِدْنا إیماناً وَتَسْلِیماً
ہمارے ایمان و تسلیم میں اضافہ کر
الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی تَعَزَّزَ
حمد ہے اﷲ کے لیے جو اپنی قدرت
بِالْقُدْرَۃِ وَقَہَرَ الْعِبادَ
سے غالب ہوا اور موت کے ذریعے
بِالْمَوْت۔
بندوں پر حاوی ہوا۔
کوئی فرشتہ آسمان میں نہیں مگر یہ کہ وہ گریہ کرے گا اور پڑھنے والے کے لیے رحمت چاہے گا۔
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ جنازہ اٹھاتے وقت یہ دعا پڑھی جائے:
ِبِسْمِ اﷲِ وَبِاﷲِ اَللّٰہُمَّ
خدا کے نام سے خدا کی ذات سے اے معبود
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
رحمت فرما محمد(ص)(ص)
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ
و آل(ع) محمد(ص) پر اور مومن مردوں
لِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ
اور مومنہ عورتوں کو بخش دے ‘‘.
منقول ہے کہ امام زین العابدین- جب کسی جنازے کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے:
الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لَمْ
حمد ہے اﷲ کے لیے جس نے
یَجْعَلَنِی مِنَ السَّوادِ
مجھے ہلاک ہونے والے گروہ
الْمُخْتَرَمِ۔
میں نہیں رکھا ۔
عورتوں کے لیے جنازے کے ساتھ جانا سنت نہیں ہے، بعض علمائ کا قول ہے کہ جنازے کو تیز رفتاری کے ساتھ لے جانا مکروہ ہے اور جو لوگ جنازے کے ساتھ ہوں ان کے لیے ہنسنا اور فضول باتیں کرنا بھی مکروہ ہے۔
علامہ مجلسی(رح) حلیۃ المتقین میں لکھتے ہیں حضرت رسول(ص) سے منقول ہے کہ جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھتا ہے اس پر ستر ہزار فرشتے نماز پڑھیں گے اور اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہوجائیں گے اگر جنازے کے ہمراہ جائے اور اس کی تدفین تک وہاں رہے تو اس کے ہر قدم کے بدلے اسے ایک قیراط ثواب دیا جائے گا اور یہ قیراط کوہ احد کے برابر ہوتا ہے۔
ایک اور حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں جو بھی مومن کسی کی نماز جنازہ پڑھے گا تو جنت اس کے لیے واجب ہوجائے گی، بشرطیکہ وہ منافق یا والدین کا نافرمان نہ ہو. معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جب کوئی مومن مرتا ہے اور اس کے جنازے پر آکر چالیس مومن یہ کہتے ہیں:
اَللّٰھُمَّ اِنَّا لَا نَعْلَمُ مِنْہُ
یعنی اے معبود! ہم اس کے متعلق
اِلَّاخَیْراً وَ اَنْتَ اَعْلَمُ
سوائے نیکی کے کچھ نہیں جانتے اور
بِہِِ مِنَّا.
تو اسے ہم سے زیادہ جانتا ہے۔
تب خدائے تعالیٰ فرماتا ہے میں نے تمہاری گواہی قبول کر لی اور اس کے گناہ معاف کر دیئے ہیں جن کو تم نہیں جانتے ہو اور میں جانتا ہوں۔
ایک اور معتبر حدیث میں رسول اﷲ سے منقول ہے کہ مومن کے مرنے کے بعد وہ پہلی چیز جو اس کے نامہ اعمال میں لکھتے ہیں وہ وہی ہوتی ہے جو بات لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں . اگر نیک بات کہتے ہیں تو نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر بری بات کہتے ہیں تو برائی لکھی جاتی ہے۔
مولف کہتے ہیں: شیخ طوسی(رح) مصباح المتہجد میں فرماتے ہیں: مستحب ہے کہ جنازے کی تربیع کی جائے یعنی پہلے میت کے دائیں طرف کندھا دیا جائے اس کے بعد دائیں پاؤں کی طرف پھر بائیں پائوں کی طرف اور بعد میں میت کے بائیں ہاتھ کی طرف سے کندھا دیا جائے گویا جنازے کے چاروں اطراف کو اس طرح کندھا دیا جائے جس طرح چکی کو گھمایا جاتا ہے جب جنازے کو قبر کے نزدیک لائیں تو اگر میت مرد کی ہے تو اسے قبر کی پائنتی کی طرف لے جائیں اور قبر کے کنارے تک لے جاتے ہوئے تین مرتبہ اٹھائیں اور زمین پر رکھیں . پھر قبر میں اتاریں، اگر میت عورت کی ہے تو اسے قبر کے کنارے قبلہ کی طرف لائیں پھر قبر میں اتاریں میت کا وارث یا کوئی اور شخص جس کو ولی نے اجازت دی ہو کہ وہ پائنتی کی طرف سے قبر میں اترے کہ یہی قبر کا دروازہ ہے اور جب وہ قبر میں اتر جائے تو یہ کہے:’’
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہا رَوْضَۃً
اے معبود! تو اسے جنت کے
مِنْ رِیاضِ الْجَنَّۃِ وَلاَ
باغوں میں ایک باغ بنادے اور
تَجْعَلْہا حُفْرَۃً مِنْ
اسے جہنم کے گڑھوں میں سے
حُفَرِ النَّارِ۔
ایک گڑھا نہ بنا۔
اور مناسب ہے کہ قبر میں اتر نے والا وہ شخص سراور پائوں سے ننگاہو اور اپنے بٹن کھول دے وہ میت کو قبر میں اتار نے کے لیے اٹھائے اور سر کی طرف اسے قبر میں لے جائے اور یہ کہے:
بِسْمِ اﷲِ وَبِاﷲِ وَفِی
اﷲ کے نام اور اﷲ کی ذات سے،
سَبِیلِ اﷲِ وَعَلَی مِلَّۃِ
اﷲ کی راہ میں اور رسول(ص)اﷲ کے
رَسُولِ اﷲِ۔ اَللّٰہُمَّ
دین پر. اے معبود! تجھ
إیماناً بِکَ وَتصْدِیقاً
پر ایمان اور تیری کتاب کی تصدیق
بِکِتابِکَ ہذَا مَا وَعَدَنَا
کرتے ہوئے، یہی چیز ہے جس کا اﷲ
اﷲُ وَرَسُولُہُ وَصَدَقَ
و رسول(ص)نے ہم سے وعدہ کیا اور اﷲ
اﷲُ وَرَسُولُہُ اَللّٰہُمَّ
اور اسکے رسول(ص)نے سچ فرمایا. اے معبود!
زِدْنا إیماناً وَتَسْلِیماً۔
ہمارے ایمان و یقین میں اضافہ فرما۔
پس میت کو داہنی کروٹ پر لٹادے. اس کے بدن کا رخ قبلہ کی طرف کر کے کفن کے بند کھول دے اور اس کے رخسارے کو زمین پر ٹکادے مستحب ہے کہ اس کے ساتھ خاک شفا بھی رکھے اور پھر قبر پر اینٹیں چن دے اور اینٹیں چننے والا شخص یہ پڑھے:
اَللّٰہُمَّ صِلْ وَحْدَتَہُ،
اے معبود! اس کی تنہائی کا ساتھی رہ
وَآنِسْ وَحْشَتَہُ وَارْحَمْ
خوف میں ہمدم بن اور اس کی بے
غُرْبَتَہُ وَٲَسْکِنْ إلَیْہِ
کسی پر رحم فرما اپنی رحمتوں سے
مِنْ رَحْمَتِکَ رَحْمَۃً
خاص رحمت اس کے ساتھ کر دے،
یَسْتَغْنِی بِہا عَنْ رَحْمَۃِ
اس کے ذریعے اسے اپنے غیر
مَنْ سِواکَ وَاحْشُرْہُ
کی رحمت سے بے نیاز کر دے
مَعَ مَنْ کانَ یَتَوَلاَّہُ
اس کو پاک ائمہ کے ساتھ محشور
مِنَ الْاََئِمَّۃِ الطَّاہِرِینَ۔
فرما جن سے وہ محبت رکھتا تھا ۔

تلقین میت
اور مستحب ہے کہ میت کو شہادتین اور ائمہ طاہرین کے ناموں کی اس وقت تلقین کی جائے، جب اسے قبر میں اتارا جا چکے اور قبر کو بند نہ کیا ہو پس تلقین کرنے والا کہے:یافلاں بن فلاں، یعنی میت کانام اور اس کے باپ کانام لے کر کہے:
اذْکُرِ الْعَہْدَ الَّذِی
اس عہد کو یاد کرو جس پر رہتے ہوئے
خَرَجْتَ عَلَیْہِ مِنْ دارِ
اس دنیا سے جارہے ہو
الدُّنْیا شَہادَۃَ ٲَنْ لاَ
یہ گواہی کہ نہیں ہے
إلہَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَہُ لاَ
کوئی معبود مگر اﷲ جو یکتا ہے کوئی
شَرِیکَ لَہُ، وَٲَنَّ
اس کا شریک نہیں اور یہ کہ حضرت
مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ
محمد(ص)(ص) اس کے بندے اور رسول(ص)ہیں .
وَٲَنَّ عَلِیّاً ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ
نیز یہ کہ علی مومنون کے امیر ہیں
وَالْحَسَنَ وَالْحُسَیْن
اور حسن(ع) اور حسین(ع)
اور بارہویں امام تک ہر ایک کانام لے۔
ٲَئِمَّتُکَ ٲَئِمَّۃُ الْہُدَیٰ
تیرے امام ہیں جو ہدایت والے
الْاََبْرَارُ۔
خوش کردار ہیں۔
جب قبر پر اینٹیں چن لے تو پھر قبر پر مٹی ڈالیں اور مستحب ہے کہ جو لوگ وہاں موجود ہوں اور اپنے ہاتھوں کی پشت کے ساتھ اس پر مٹی ڈالیں اور اس حال میں یہ کہیں:
إنَّا لِلّٰہِ وَ إنَّا إلَیْہِ
یقیناً ہم اﷲ کے ہیں اور اسی کی
رَاجِعُونَ ہذَا مَا
طرف لوٹیں گے، یہی وہ چیز ہے
وَعَدَنَا اﷲُ وَرَسُولُہُ
جسکا وعدہ ہم سے اﷲ و رسول(ص)نے کیا
وَصَدَقَ اﷲُ وَرَسُولُہُ
اور اﷲ اور اسکے رسول(ص)نے سچ فرمایا
اَللّٰہُمَّ زِدْنا إیماناً
اے معبود!ہمارے ایمان و یقین
وَتَسْلِیما۔
میں اضافہ فرما۔
پس جب میت کو قبر میں اتارنے والا اس سے باہر نکلے تو پائنتی کی طرف سے باہر آئے، پھر قبر کو بند کردے اور اسے زمین سے چار انگشت کے برابر بلند کرے. اس قبر کی مٹی کے علاوہ اس پر دوسری مٹی نہ ڈالے اور بہتر ہے کہ قبر کے سر ہانے کوئی اینٹ رکھ دی جائے یاتختی لگادی جائے۔
اس کے بعد قبر پر پانی چھڑکا جائے اور اس کی ابتدائ قبر کے سرہانے کی طرف سے کی جائے۔ پانی قبر کے چاروں طرف ڈالا جائے اور اس کا اختتام سرہانے کی طرف ہی کیا جائے جہاں سے شروع کیا تھا. اگر کچھ پانی بچ رہے تو اسے قبر کے درمیان گرادیا جائے، پس جب قبر مکمل طور پر بند کی جا چکی ہوتو جو بھی شخص چاہے اس پر اپنا ہاتھ رکھے اور انگلیوں کو پھیلا دے. پھر میت کے لیے اس طرح دعا مانگے:
ًاَللّٰہُمَّ آنِسْ وَحْشَتَہُ
اے معبود! اس کے خوف میں ہمدم
وَارْحَمْ غُرْبَتَہُ وَٲَسْکِنْ
بن اس کی بے کسی پر رحم کر اس کا ڈر
رَوْعَتَہُ وَصِلْ وَحْدَتَہُ
دور کردے، اس کی تنہائی کا ساتھی
وَٲَسْکِنْ إلَیْہِ مِنْ
رہ اور اپنی رحمتوں سے خاص رحمت اسکے
رَحْمَتِکَ رَحْمَۃً
ساتھ کردے کراس کے ذریعے
یَسْتَغْنِی بِہا عَنْ رَحْمَۃِ
اسے اپنے غیر کی رحمت سے بے
مَنْ سِواکَ وَاحْشُرْہُ
نیاز کردے اوراس کو ان کے ساتھ
مَعَ مَنْ کانَ یَتَوَلاَّہُ۔
اٹھانا، جن سے محبت رکھتا تھا۔
پھر جب سارے لوگ اس کی قبر سے واپس چلے جائیں تو جو شخص میت کے امر کا زیادہ حقدار ہے، وہ واپس جانے میں جلدی نہ کرے اور اس پر احسان کرتے ہوئے بلند آواز سے تلقین پڑھے، اگر تقیہ مانع نہ ہو پس کہے:اے فلاں ابن فلاں﴿ میت کا اور اس کے باپ کا نام لے﴾ :
اﷲُ رَبُّکَ وَمُحَمَّدٌ
اﷲ تیرا رب ہے حضرت محمد(ص)
نَبِیُّکَ وَالْقُرْآنُ
تیرے نبی ہیں اور قرآن تیری
کِتابُکَ، وَالْکَعْبَۃُ
کتاب ہے، کعبہ تیرا
قِبْلَتُکَ وَعَلِیٌّ إمامُکَ
قبلہ ہے، حضرت علی تیرے امام ہیں
وَالْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ
اور حسن(ع) اور حسین(ع) ۔
اور بارہویں امام تک ہر ایک کا نام لے
ٲَئِمَّتُکَ ٲَئِمَّۃُ الْہُدَی
تیرے امام ہیں، وہ امام ہدایت
الْاََبْرَارُ۔
والے خوش کردار ہیں ۔
مولف کہتے ہیں: احتضار ﴿جان کنی﴾ کے علاوہ دو اور مقامات ہیں، جہاں میت کو تلقین کرنا مستحب ہے، ایک وہ وقت جب میت کو قبر میں لٹایا جائے اور بہتر یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے اس کے داہنے شانے کو اور بائیں ہاتھ سے اس کے بائیں شانے کو پکڑ کر اسے ہلاتے ہوئے، تلقین پڑھی جائے اور اس کے پڑھنے کا دوسرا وقت وہ ہے، جب میت کو دفن کر چکیں، چنانچہ مستحب ہے کہ میت کا ولی یعنی سب سے قریبی رشتہ دار دوسرے لوگوں کے چلے جانے کے بعد قبر کے سرہانے بیٹھ کر بلند آواز سے تلقین پڑھے اور بہتر ہے کہ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں قبر پر رکھے اور اپنا مُنہ قبر کے قریب لے جا کر تلقین پڑھے اگر کسی کو اپنا نائب بنائے تو بھی مناسب ہے۔
روایات میں آیا ہے کہ میت کے لیے اس وقت جو تلقین پڑھی جاتی ہے تو منکر اپنے ہمراہ نکیر سے کہتا ہے کہ آئو واپس چلیں، کیونکہ اسے اس کی حجت کی تلقین کردی گئی ہے. لہذا اب اس سے سوال کرنے کی ضرورت نہیں رہی. چنانچہ وہ سوال نہیں کرتے اور لوٹ جاتے ہیں ۔

تلقین جامع میت
علامہ مجلسی(رح) کا ارشاد ہے کہ اگر تلقین اس طرح سے پڑھی جائے تو زیادہ جامع ہوگی۔
اسْمَعْ افْہَمْ یَا فُلانَ
تو سن اور سمجھ اے فلاں
ابْنَ فُلانٍ۔
بن فلاں۔
یہاں میت کا اور اس کے باپ کا نام لے اور کہے:
ہَلْ ٲَنْتَ عَلَی الْعَہْدِ
آیا تو اسی عہد پر قائم ہے
الَّذِی فارَقْتَنا عَلَیْہ
جس پر تو ہمیں چھوڑ کر آیا ہے، یعنی
مِنْ شَہادَۃِ ٲَنْ لاَ إلہَ
یہ گواہی کہ نہیں ہے معبود
إلاَّ اﷲُ وَحْدَہُ لاَ
مگر اﷲ جو یکتا ہے ، کوئی
شَرِیکَ لَہُ وَٲَنَّ
اس کا شریک نہیں اور یہ کہ
مُحَمَّداً صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ
حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و
وَآلِہِ عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ
آلہ اس کے بندے اور رسول(ص)ہیں،
وَسَیِّدُ النَّبِیِّینَ وَخَاتَمُ
وہ نبیوں کے سردار اور پیغمبروں کے
الْمُرْسَلِینَوَٲَنَّ عَلِیَّاً
خاتم ہیں. اور یہ کہ حضرت علی(ع)
ٲَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ وَسَیِّد
مومنوں کے امیر اوصیائ
الْوَصِیِّینَ وَ إمامٌ افْتَرَضَ
کے سردار اور ایسے امام ہیں کہ اﷲ نے انکی
اﷲُ طاعَتَہُ عَلَی الْعالَمِین
اطاعت تمام جہانوں پر فرض کردی ہے،
وَٲَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ
نیز حسن(ع) و حسین(ع)،
وَعَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ
علی زین العابدین(ع)،
وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ
محمد باقر(ع)،
وَجَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ
جعفر صادق(ع)،
وَمُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ
موسیٰ کاظم(ع)،
وَعَلِیَّ بْنَ مُوسی
علی رضا(ع)،
وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ
محمد تقی(ع)،
وَعَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ
علی نقی(ع)،
وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ
حسن عسکری(ع)،
وَالْقَائِمَ الْحُجَّۃَ الْمَہْدِیَّ
اور حجت القائم مہدی(ع) کہ ان سب
صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْہِمْ
پر خدا کی رحمت ہو،
ٲَئِمَّۃُ الْمُؤْمِنِینَ وَحُجَجُ
یہ مومنون کے امام اوراﷲ کی ساری
اﷲِ عَلَی الْخَلْقِ ٲَجْمَعِینَ
مخلوق پر اس کی حجتیں ہیں. تیرے یہ
وَٲَئِمَّتَکَ ٲَئِمَّۃُ ہُدیً
امام ہدایت والے خوش
ٲَبْرَارٌ، یَا فُلانَ ابْنَ
کردار ہیں. اے فلاں بن
فُلانٍ إذا ٲَتَاکَ الْمَلَکانِ
فلاں، جب تیرے پاس دو مقرب
الْمُقَرَّبانِ رَسُولَیْنِ
فرشتے دو پیام بر اﷲ
مِنْ عِنْدِ اﷲِ تَبَارَکَ
تبارک و تعالیٰ کی طرف سے آئیں
وَتَعَالَی وَسَئَلَکَ عَنْ
اور تجھ سے پوچھیں، تیرے رب
رَبِّکَ وَعَنْ نَبِیِّکَ
تیرے نبی تیرے
وَعَنْ دِینِکَ وَعَنْ
دین تیری کتاب
کِتابِکَ وَعَنْ قِبْلَتِکَ
تیرے قبلہ اور تیرے
وَعَنْ ٲَئِمَّتِکَ فَلا
ائمہ کے متعلق تو ڈرمت
تَخَفْ وَقُلْ فِی جَوابِہِما
اور ان کے جواب میں کہہ کہ اﷲ
اﷲُ جَلَّ جَلالُہُ رَبِّی
جل و جلالہ میرا رب ہے.
وَمُحَمَّدٌ صَلَّی اﷲُ
حضرت محمد صلی اﷲ
عَلَیْہِ وَآلِہِ نَبِیِّی وَالْاِسْلامُ
علیہ و آلہ میرے نبی ہیں. اسلام میرا
دِینِی وَالْقُرْآنُ کِتابِی
دین ہے، قرآن میری کتاب ہے،
وَالْکَعْبَۃُ قِبْلَتِی وَٲَمِیرُ
کعبہ میراقبلہ ہے. اور امیرالمومنین
الْمُؤْمِنِینَ عَلِیُّ بْنُ
علی(ع) بن ابیطالب
ٲَبِی طالِبٍ إمامِی،
میرے امام ہیں،
وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ
ان کے بعد حسن(ع) مجتبیٰ
الْمُجْتَبَی إمامِی وَالْحُسَیْنُ
میرے امام ہیںاور حسین (ع)بن
بْنُ عَلِیٍّ الشَّہِیدُ بِکَرْبَلائَ
علی(ع) جو کربلا میں شہید ہوئے میرے
إمامِی وَعَلِیٌّ زَیْنُ الْعابِدِینَ
امام ہیں، علی (ع)بن زین العابدین(ع)
إمامِی وَمُحَمَّدٌ باقِرُ
میرے امام ہیں، نبیوں کے علم پھیلانے
عِلْمِ النَّبِیِینَ إمامِی
والے اور محمد باقر(ع) جو میرے امام ہیں
وَجَعْفَرٌ الصَّادِقُ إمامِی
جعفر صادق(ع) میرے امام ہیں،
وَمُوسَی الْکاظِمُ إمامِی
موسیٰ کاظم(ع) میرے امام ہیں،
وَعَلِیٌّ الرِّضا إمامِی
علی(ع) رضا میرے امام ہیں،
وَمُحَمَّدٌ الْجَوادُ إمامِی
محمد تقی(ع) جوادمیرے امام ہیں،
وَعَلِیٌّ الْہَادِی إمامِی
علی نقی(ع) ہادی میرے امام ہیں،
وَالْحَسَنُ الْعَسْکَرِیُّ
حسن(ع) عسکری(ع) میرے
إمامِی وَالْحُجَّۃُ الْمُنْتَظَرُ
امام ہیںحجت منتظر میرے
إمامِی ہؤُلائِ صَلَواتُ
امام ہیں. ان سب پر خدا کی
اﷲِ عَلَیْہِمْ ٲَجْمَعِینَ
رحمت ہو کہ یہی میرے
ٲَئِمَّتِی وَسادَتِی وَقادَتِی
امام میرے سردار ،میرے پیشوااور
وَشُفَعائِی بِہِمْ ٲَتَوَلَّی
میرے شفیع ہیں، میں ان سے محبت
وَمِنْ ٲَعْدائِہِمْ ٲَتَبَرَّٲُ
کرتا ہوں، ان کے دشمنوں سے
فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ
نفرت کرتا ہوں، دنیا و آخرت میں
ثُمَّ اعْلَمْ یَا فُلانَ ابْنَ
پس جان لے اے فلاں بن
فُلانٍ ٲَنَّ اﷲَ تَبارَکَ
فلاں یہ کہ اﷲ تبارک و
وَتَعالی نِعْمَ الرَّبُّ
تعالیٰ بہترین رب ہے
وَٲَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی
اور حضرت محمد صلی
اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ نِعْمَ
اﷲ علیہ و آلہ بہترین
الرَّسُولُ وَٲَنَّ ٲَمِیرَ
رسول(ص) ہیں، امیرالمومنین
الْمُؤْمِنِینَ عَلِیَّ بْنَ
علی بن ابیطالب اور
ٲَبِی طالِبٍ وَٲَوْلادَہُ
ان کی اولاد سے
الْاََئِمَّۃَ الْاََحَدَ عَشَر
گیارہ امام بہترین
نِعْمَ الْاََئِمَّۃ وَٲَنَّ مَا
ائمہ ہیں اور یہ کہ جس چیز کو
جائَ بِہِ مُحَمَّدٌ صَلَّی
لے کر حضرت محمد صلی
اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ حَقٌّ
اﷲ علیہ و آلہ آئے وہ حق ہے،
وَٲَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ
موت حق ہے،
وَسُؤَالَ مُنْکَرٍ وَنَکِیرٍ
قبر میں منکر و نکیر کا سوال کرنا حق
فِی الْقَبْرِ حَقٌّ وَالْبَعْثَ
ہے، قبروں سے اٹھنا
حَقٌّ وَالنُّشُورَ حَقٌّ
حق ہے، حشر و نشر حق ہے،
وَالصِّراطَ حَقٌّ وَالْمِیزانَ
صراط حق ہے، میزان عمل حق ہے
حَقٌّ وَتَطایُرَ الْکُتُبِ
نامہ اعمال کا کھولا جانا حق ہے،
حَقٌّ وَالْجَنَّۃَ حَقٌّ
جنت حق ہے، جہنم
وَالنَّارَ حَقٌّ وَٲَنَّ
حق ہے، اور یقیناً
السَّاعَۃَ آتِیَۃٌ
قیامت آکر رہے گی
لاَ رَیْبَ فِیہا، وَٲَنَّ
اس میں شک نہیں اور
اﷲَ یَبْعَثُ مَنْ فِی
خدا انہیں اٹھائے گا جو قبروں
الْقُبُور۔
میں ہیں۔
اس کے بعد کہے:
ٲَفَہِمْتَ یَا فُلانُ؟
اے فلاں کیا تو نے سمجھ لیا ہے؟
حدیث میں ہے کہ اس کے جواب میں میت کہتی ہے کہ ہاں میں نے سمجھ لیا. پھر کہے:
ثَبَّتَکَ اﷲُ بالْقَوْل
خدا تجھے اس مضبوط قول پر قائم
الثَّابِتِ ہَدَاکَ اﷲُ
رکھے خدا تجھے صراط
إلی صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ
مستقیم کی ہدایت کرے
عَرَّفَ اﷲُ بَیْنَکَ وَبَیْنَ
خدا اپنی رحمت کی قرار گاہ میں
ٲَوْلِیائِکَ فِی مُسْتَقَرٍّ
تیرے اور تیرے اولیائ کے
مِنْ رَحْمَتِہِ۔
درمیان جان پہچان کرائے۔
پھر کہے:
اَللّٰہُمَّ جافِ الْاََرْضَ
اے معبود! اس کی قبر کی دونوں
عَنْ جَنْبَیْہِ وَاصْعَدْ
اطراف کو کشادہ کر اس کی روح کو
بِرُوحِہِ إلَیْکَ وَلَقِّہِ
اپنی طرف اٹھالے اور اسے دلیل و
مِنْکَ بُرْہاناً اَللّٰہُمَّ
برہان عطا فرما. اے معبود اسے
عَفْوَکَ عَفْوَکَ۔
معاف فرما، معاف فرما۔

﴿ خاتمہ کتاب﴾
میں نے اس باشرف رسالے کے مضامین کو لفظ ’’عفو‘‘ پر ختم کیا ہے اور امید و اثق ہے کہ پروردگار عالم کا عفو و کرم اس روسیاہ کے اور ان لوگوں کے بھی شامل حال ہوگا جو اس رسالے پر عمل کریں گے. اس کی تالیف کا سلسلہ ۹۱ محرم الحرام ۵۴۳۱ ÷ھ کو روز جمعہ کی آخری ساعتوں میں ہمارے مسموم امام ہمارے غریب اور مظلوم مولا امام ابوالحسن علی رضا(ع) کے قرب میں اختتام کو پہنچا ﴿ان پر اور ان کے بزرگان پر زندہ و پائندہ خدا کا سلام ہو﴾۔
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ اَوَّلاً وَّ
حمد ہے اﷲ کے لیے آغاز
آخِرًا وَّ صَلّیَ اﷲُ
و انجام میں اور خدا کی رحمت ہو
عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٰ۔
محمد(ص) اور ان کی آل(ع) پر۔
اس رسالے کو اپنے گناہکار ہاتھوں سے عباس بن محمد(ص) رضا قمی نے مرتب کیا﴿خدا ان دونوں کے گناہ معاف فرمائے﴾. اس بابرکت رسالے باقیات الصالحات کی ﴿پہلی﴾ کتابت غلام رضا صفا بن مرحوم و مغفور حسین باقر آبادی نے ۶۰۴۱ھ میں مکمل کی۔

No comments: